Home / Articles / Articles in Urdu / سازش رچی گئی ہے کچھ ایسے میرے خلاف

سازش رچی گئی ہے کچھ ایسے میرے خلاف

خان صاحب! گنا ہ گار کو علم نجوم کی گیان ہے نہ دھیان ہے، ملک ِ کشمیر کو کیوں بھول گیا بر ہان ہے ؟ کئی دن سے صرف دنگل دنگل وردِ زبان ہے، ٹاکی ہے یا کوئی طوفان ہے ؟ دنگل پردیش اور دنیاکیوں قربان ہے ؟ بندہ حیران و پشیمان ہے جادو ٹونا یا فسانۂ پرستان ہے ؟ حالانکہ کشمیر میں فی الحال پادشاہت ِ چلہ کلان ہے ۔ چاروں طرف برف وباران ہے ۔ٹھنڈ ٹھٹھراہٹ برفا نی ہوا دامن افشان ہے۔ بجلی نایاب، پانی ندارد، سڑک گلی کوچہ پھسلن کی میزبان ہے۔ عام آدمی بے سر وسامان ہے ۔ ہرگراں فروش، منافع خور، ذخیرہ اندوز وقت کا سلطان ہے۔ ہڑتالِ حریت بے سود، احتجاج بے مطلب، بیان اخباری صفحات کی گونگی زبان ہے ۔ اسمبلی نمائشی ہنگاموں میں مصروف بہ دل و جان ہے ۔ ارکان میں گفتاری گرماہٹ کا میچ فکسنگ عہد وپیمان ہے ۔ باز آبادکاری بل کوڑدان میں ویران مگر ستائیس سالہ تارکین وطن کے لئے اسمبلی کی قراردادی اعلان ہے، ایسے میں یہ سرطان ہے کہ وادیٔ برف پوش بنا ئی گئی دنگل کا میدان ہے ۔ کیا آگے شور و شر، فسادو بگاڑ کم تھا کہ آگیا اب ممبئی کاعامرخان ہے۔ قلب ِکشمیر کی نشتر زنیاں، بدنامیاں، کر دار کشیاں کرکے دنگل خان بنا بڑا دھنوان ہے، ہر کشمیری بن گیا گورِ غریبان ہے ، کہہ رہا بزبانِ حال اپنی داستان ہے    ؎

سازش رچی گئی ہے کچھ ایسے میرے خلاف

ہر انجمن میں باعث ِآزار میں ہی تھا

سو کرتبوں سے زخم لگائے گئے مجھے

شاید کہ اپنے عہد کا شاہ کار میں ہی تھا

معلوم ہے دنگل خان نے ایک بار بر سبربازار کہا رہنے کے لائق نہیں ملک ِہندوستان ہے، شریک ِحیات کہتی ہے چلو بلما بھاگ چلیں بہتر جارہنا انگلستان ہے۔ فلمی لونڈ ا زخم ہائے کشمیر پر چھڑک رہا اپنا نمک دان ہے ، کشمیر بیزاری سے خان ٹولے پہ سنگھ ہوا مہر بان ہے ۔دنگل سے دودوہاتھ کمائی کے لئے  کشمیر بنا ثانی ٔپوکھران ہے۔ دل ِنادان کہے جنگل میں منگل کا یہی عنوان ہے ، دوستی کے لبادے میںجتنی دشمنی کشمیر ہواُتنا آدمی مہان ہے   ؎

دشمنی پیڑ پر نہیں اُگتی

یہ ثمر دوستی سے ملتا ہے

میرے یار ! فن کے اسی دیارمیں مست ومحو تھا کہ حجام ؔگنجا پوری آ دھمکا۔ بوڑھے کھوسٹ خود کو شاہی حلاق کہے ، پانچ پشت پرانا خاندانی کھیسابغل میں دبائے بلّی ماراں کی گلیاںمارا مارا پھرے۔ ہندی اُسترا، مس ِخراساں کٹوری جرمن قنچی، اتنا ہی مال و متاع مگربکواس کی دولت اتنی کہ دلی کے تفریح طبع پر خرچ کیجئے، ختم نہ ہو۔ آفت ِ جاں کو آتے دیکھا ، ماتھا ٹھنکا۔افسوس! یہ نیم چڑھا کر یلا تھکے دماغ بجھے دل کا کچومر نکالے ہی دم لے گا ۔ اس سے پہلے یہ اپنا دل پسند ساز چھیڑتا، بندے نے اس ننگ ِاسلاف کا منہ کرنے کے لئے فوراً چلم سلگائی۔ گنجاپوری سے کہا: آیئے حضور آیئے ، بڑی دیر کر دی صنم آتے آتے ، اپنے بال کھردرے ، داڑھی بے ترتیب، چہرہ پژمردہ، بس انہیں آپ کا بہت دن سے انتظار تھا، خدا نے سنی  آپ کا دیدارہو ا۔ سلام دعا کے بعد مشٹنڈے نے موروثی بے ادبی کے ساتھ دھو ئیں کے مرغولوں سے دیوان خانہ سیاہ کر دیا۔ مرتا کیا نہ کرتا ، خامشی کا بت بنا رہا ،کبھی خود کو کبھی اپنے گھر کو دیکھتا۔ جی چاہتا تھا کم ظرف کی گردن مروڑ ے زمین کا بوجھ ہلکا کروں ۔۔۔مگر شامت اعمال کو گھر سے نکالتا بھی کیسے؟ ایک توحجامت کی حاجت ، اوپر سے کئی ماہ و سال سے کم بخت کا مقروض ہوں ۔ قرض داری نے سکوت ِ لب بھی سکھایا، بناوٹی مسکراہٹ کا ہنر بھی دیا ۔ نامراد کش پہ کش پر مار تا رہا، ڈیڑھ پاؤ لاہوری تمباکو کالک بنا نے کے بعد میرے گوشِ سماعت کی حجامت شروع ہوئی، منہ کا پھاٹک کھولاپھر بولا:مرزا صاحب! پتہ بھی ہے سیاست ِدرباں کارُخ کہاں ؟ کار ِ جہاں کتنا درا ز؟ ہو ائیں کس جانب ؟ میں نے کہا بات کاٹنے کی نیت سے کہا بھئی آج کل بندہ فضولیات سے لاعلم ، جام ِجم سردی سے منجمد، نامہ وپیام کا سلسلہ موقوف ، آمدوروفت مسدود ، ٹھنڈ عروج پر ، کانگڑی سے انگارے معدوم ، دل میں شرارے مفقود۔۔ حجامت شروع کیجئے، بسم اللہ ۔۔۔ میں نے نوٹ بدلی کی طرح اُس کے سوالات کو تاریخ کے حاشیئے پر چپکانا چاہا، وہ زحمت چپ چاپ اصل کام کا کہاں خیال کرے، بولا: آپ بادشاہ ِ سخن، کلامِ دلربا کا مہکتاچمن، اُستادِ فن ، پھبتی کسنے، چمٹی مارنے، چوٹ کر نے میںبیدادِ زمن مگر واللہ شہر کے زاغ وزغن کی اُڑان سے ناآشنا و بے خبر ۔ اُف میرے پروردگار! یہ دینائے ناپائیدار، اس میں جابجاانتشار وخلفشار ، ہر کوئی مطلب کا یار، شاہوں کو بھی خلقت میں خجالت سے نہیںانکار نہ کوئی خوف ِ کردگار۔ سنیو مرزا! یہ جو ماضی کے بانڈ آج کل کے فلمی اداکار ہیں، سارے کے سارے فن ِآذری کے ساہوکار ، سب ڈھونگی تمام  مکار،عریانیت کے پیرو کار، نفسانیت میں گرفتار،دولت کی بھوک میںمثل ِ سگ ِدُم دار، انہی خانہ خرابوں سے شرافت کی ردّا داغ دار، انسانیت سے بغاوت میں یہ شرربار، ابلیسیت کے کھاتہ دار ، لاج شرم  کاہے کی ؟ یہ شتر بے مہار۔۔۔ رہے اپنے بکاؤسیاست کار ، یہ بھی انہی کے بھائی بند، ہم پیشہ و ہم خیال وہم کار ، گھر کو چھوڑ کے مادرِ وطن کے بھی نہیں یہ وفادار، قوم پر مسلط یہ حاکمان ِ ناہنجار، پیدائشی طور بے اعتبار، ان کا جبہ نقلی اور جعلی دستار، تقریری مکالمہ بازی میں شعلہ بار ، عمل دیکھوتو محض لفظوں کے انبار۔۔۔ دس نمبری کلاکارو سیاست کار مشترکہ طور ہر جگہ نامدار، نہ قابل ِاعتمادنہ عزت دار، نام وزر کمالیں تو ملک وقوم کے تھانیدار، ناکام ہو ئے تو بے ہو اغبار،سچ کی طرح جھوٹ بولناان کا چمتکار،حق دبانا موروثی کردار، ریا کاری میں وضع ِطرح دار، چار سوبیسی میں پختہ کار ، گھٹی میں پڑی ہے لوٹ مار ، قوم کو کنگال بنانے میں مہا فن کار، کمائی بے شمار مگر پھر بھی مفلس و نادار، منجھے ہوئے عیار ، ادائیں ان کی مزے دار، گفتار میں لار نہ دار،بجز دھوکہ دھڑی ہر کام میںبے کار ، سنہرے سپنوں کے دلدار، ووٹ کے لئے دربدرو خوار ، بوقت ضرورت جھک جھک کے سلام ہاتھ جوڑے نمسکار ، کام نکلا تو وعدہ وفائی سے فرار، ایک منظر میں افسپا کے خلاف غم و غصے کی تلوار، دوسرے منظر میں اعلان کریں کالے قانون کے ہم جنم جنم سے طرف دار، بے بھروسہ ان کے سارے قول وقرار، ایک منہ میں رکھیں زبانیں دس ہزار، کبھی میٹھے بول کا اُپہار، کبھی کھٹاس کے خنجر نوک دار،ا پنا قبلہ تبدیل کریں بار بار ، ایک لمحہ برفانی یخ بستگی جیسے لیل ونہار،دوسرے لمحہ نار ہی نار، قتل وخون ناانصافی میں اغیارکے مددگار، ہر اصول ہر موقف کے غدار، اسی ڈانواںڈول پر نازاں ہو کے بتلائیں ہم لچک دار، ہم منشور اتحاد کے علمبردار ،ہم زمانے کی رفتار، ہم وقت کی پکار ، ہم قوم کے سردار، ہم پہ ملک وملت نثار،ہم خود مختاری کے تاجدار، ہم خود حکمرانی کے خدمت گا ر، ہم کلیوں کو قبر کرنے والے مر ہم کار، ہم پی ایس اے کے شہمار ، ہم ہی ناگپوری لشکر کے سپہ سالار، ہم ہی چلہ کلان، چلہ خورد چلہ بچہ و آمد بہار ۔ جو ہم فوج درفوج ابابیلوں کے طلب گار، مودی مہاراج ہمارا ہی تاج دار ۔۔۔ مرزا ! ان کلاکاروںسے مانگ پناہ ِ کردگار   ؎

تسخیرچمن پر نازاں ہیں تزئین چمن تو کر نہ سکے

تصنیف فسانہ کر تے ہیں کیوں آپ مجھے بہلانے کو

حجام ؔگنجا پوری صاحب ! اب تو میری داڑھی سنواریئے ، بال بنایئے، اتنی دیر سے بسم اللہ کا انتظار ہے۔ وہ بولا: ارے حضور! داستانِ زمانہ سنئے تو کھانسی، زُکام ،بلغم کا بارہلکا ہواجائے ۔بسم اللہ تھوڑا ہی کہیں بھاگ جاوئے ۔ صبر کا پھل میٹھا۔۔۔ ہاں تو میں کیا عرض کررہا تھا، یاد آیا خان ِ خانان کی دنگل۔ بہت سارے دَنگل ہوئے ، ہورہے ہیں ، آئندہ ہوں گے۔ ۔۔ جنت بے نظیر کے دنگل پہ دنگل، سنہ اکتیس میں مسلم کانفرنسی دنگل، سنہ َاڑتیس میں نیشنل کانفرنسی دنگل، سنہ سنتالیس میں ہندی دنگل، سنہ ترپن میں محاذی دنگل ، سنہ پچھتر میں اکارڈی دنگل ، سنہ نوے میں عسکری دنگل ، سنہ ودہزار آٹھ میں امرناتھ دنگل، سنہ نومیں شوپیان

دنگل، سنہ دس میں رگڑو دنگل ، سنہ سولہ میں برہان دنگل، سنہ تین ہزارایک میں آزادی دنگل۔ فی الوقت عامر خان کا فلمی دنگل۔۔۔ یہ بالی وڈ کے خالی پاکھنڈی پاکوب پازیب کی جھنکار ، بانڈوں محل سراؤں میراثیوں کا جشن ِنو بہار ، کشمیر کو کھینچ تان کے فلمی دنگل سے جوڑ نا کمپنی کی مشہوری کا اشتہار، اسی خوب چلے گافلمی کاروبار ، جو اس دردسر میں پڑے وہ فضول ،وہ آوارہ ،وہ بے کار، کشمیر کو اپنے غموں سے مہلت نہیں،ا پنے مصائب سے فرصت نہیں، اوروں کے غم کا کیوں رہے زیر بار؟ ا س کے ابھی زخم تازے، ابھی اشک بہتے، ابھی درد کی ٹیسیں اور لگے کم سواد فلمی دنگل کی سر تال بیچ میں لانے۔ شاعر کی نصیحت ہے   ؎

خشک ہو جائے گی روتے روتے صحرا کی طرح

کچھ بچا کر بھی تو اس آنکھ میںآنسو میں رکھو

مرزا کہنے کو اور بھی بہت کچھ ہے مگر تم ہی نے سچ کہا     ؎

وہ فراق اوروہ وصال کہاں

وہ شب وروز وماہ وسال کہاں

فرصت ِکارو بار شوق کسے

ذوقِ نظارہ ٔ جمال کہاں

فکر دنیا میں سر کھپاتا ہوں

میں کہاں اور یہ وُبال کہاں

بر خوردار! سن سن کے کان پک گئے ، پیمانۂ صبر ٹوٹ گیا ، آواز میں کرختگی آگئی ، بدن پر غصے کی لرزش طاری ، زبان بھی کچھ لڑ کھڑائی مگر بہت ضبط رکھ کے بولا: حجام صاحب !خدارا میری حجامت سے فارغ ہوجایئے، کیوں اس غریب کو درزی کی دوکان سمجھ کر دیوار سے لٹکائے رکھا ؟ گنجا پوری کہنے لگا : جناب ذرا سا صبر بھی نہیں ہوتا آپ سے ، بڑے اُتاولے ہو رہے ہیں ۔ دنگل کی آخری بات سنے بغیر کیا خاک مزا آئے ۔ عرض کیا ہے کار خانہ ٔ عالم معمول کے مطابق چل رہاتھا، اچانک صاحبہ کو سوجھا ،کیوں نہ اپنی سیاسی کلاری کا دنگل کھیلا جائے۔ فوراً کسی اداکارہ کو بلایا، پاس بٹھایا، مسکراتے ہوئے اپنے ساتھ فوٹو کھینچوایا، بوال مچایا ، اخبارات یکایک بھر گئے ، چنلوں کی نیندیں اُڑ گئیں، سیاسی گلیاروں کی خشک سالی دور سو کھا کافور، بیانات کا سیل ِرواں، متضادخیالات کی دھینگا مشتی شروع، فتوے بازیاں، فطارت کے جلوے، دیوانگی کے قصے، تردیدی بیانات کی تردید، نئی وضاحتیں نئے شگوفے، بالی وڈ کا اظہارِ یکجہتی ، بھاجپا اسمبلی حشمگیں ، مودی وزیروں کا پارہ گرم ۔ میں نے کہا بھائی لوگو! ہم بولتے نہیں مگر دیکھتے ہیں ، کیا کسی آسیہ، کسی نیلوفر ، کسی طفیل متو، کسی انشاء ، کسی جنید پر دو لفظ نچھاور کئے ؟ انسانیت دکھائی؟ واہ بھئی واہ ، کیاکہنے تمہارے! ایک فلمی دنگل پر اتنا پیار امڈ آیا کہ سیلاب ِ ستمبر یاددلایا   ؎

تنہا اُداس چاند کو سمجھو نہ بے خبر

ہر بات سن رہاہے مگر بولتا نہیں

گنجاپوری۔۔۔ میں چیخ کے بولا کہ یارائے ضبط ٹو ٹ گیا ۔ میرا غصہ دیکھ کر وہ گھبر ایا۔۔۔ دو ٹکے کے حلاق، تم نے کیا مجھے بازیچہ ٔ اطفال سمجھ رکھا ۔ اتنی دیر سے جنوں میں بک رہاہوں لٹکائے نہ رکھ مجھے مگر تو بکتا ہی جاوئے، بکتا ہی جاوئے، کچھ اس غریب پر رحم نہ کھا وئے ۔ جا نہیں کرا نی اپنی حجامت۔۔۔ میں نے طیش میں آکر یہ سب بک دیا۔ حجام گنجاپوری نے اپنا کھیسا اکھٹا کیا : مرزا صاحب ! کچھ اپنی زبان پر قابو بھی رکھئے، میں غریب ہوں ضرور مگر دنگل باز نہیں ، میری عزت شاہی گھرانوں سے پوچھئے ، جایئے آج سے میں کبھی آپ کی داڑھی بال نہیں بناتا، کل صبح تک میرے دس سالہ محنتانہ چکایا تو ٹھیک ، ورنہ میں سیدھے کوتوالی میں رپٹ لکھواؤں گا ، پھر دیکھئے شہر میں رہنے کے قابل رہیں گے آپ دنگل بازمرزا ! ۔۔۔گنجا پوری چلاگیا اور ایک بار بھی مڑکر نہ دیکھا ، اوپر سے ظالم کوتوال اس کی طرف سے تقاضا کے بہانے دن میں دس بار دیوان خانے میں بلا اجازت آوئے ، اپنا ہفتہ لُوٹ لے جاوئے ۔ ادھر حجامت نہ ہونے سے میں واقعی دبنگ دنگل باز ہو گیا ہوں ۔ بال ہپیوں جیسے لمبے لمبے، داڑھی مسئلہ کشمیر کی مانند طویل تر ! گھر سے باہر قدم رکھنے کی جسارت نہیں ، مبادا گلی کے کتے پیچھے پڑیں ، بچے دیوانہ سمجھ کر پتھر ماریں ۔ براہِ کرم گنجا پوری کو ایک بار میرے پاس بھجوایئے ، میں اس کے پاؤں پڑ وں گا ، معافی مانگوں گا ۔ اللہ! کیا یہی دن دیکھنے کے لئے زندہ رکھا ۔

About Tanveer Khatana

Check Also

فوج پر ہر الزام کیوں؟؟؟ تحریر نوید چوہان

کل کا سورج طلوع ہوتے ہی پاکستانی عوام اپنے مستقبل کا فیصلہ کرنے نکلے گی، …

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *