Home / Latest Urdu News / Ban ul Aqwami / پانامہ کیس اہم مرحلہ میں داخل ہو چکا ہے۔ چوہدری فواد حسین ترجمان پاکستان تحریک انصاف

پانامہ کیس اہم مرحلہ میں داخل ہو چکا ہے۔ چوہدری فواد حسین ترجمان پاکستان تحریک انصاف

جہلم(محمدشہباز بٹ)پاکستان تحریک انصاف کے مرکزی ترجمان چوہدری فواد حسین نے کہا ہے کہ پانامہ کیس اہم مرحلہ میں داخل ہو چکا ہے،عوام کی عدالت نے تو فیصلہ دے دیا ہے ،قانونی فیصلہ امید ہے 15سے 20دن میں آجائیگا،وفاقی وزیرخزانہ اسحاق ڈار کی اعترافی بیان حلفی کا معاملہ فرض کر لیں اس کی اپنی حیثیت نہیں بھی ہے تو دیکھنا یہ ہے ان کے بیان کی کارپوریشن کیلئے شہادت موجود ہے یا نہیں،مثال کے طور پر ان کا بیان ہے کہ تین اکاؤنٹس پاکستان میں کھولے اور تین اکاؤنٹس برطانیہ میں کھلے اب دستاویزات کے ساتھ یہ چیک کر سکتے ہیں کہ یہ اکاؤنٹس کھلے یا نہیں،اس کے ساتھ ساتھ ان کا یہ بیان بھی ہے کہ پیسے فلاں فلاں اکاؤنٹ سے فلاں فلاں اکاؤنٹ میں ٹرانسفر ہوئے اور پھر ٹوٹل رقم جو 1046کروڑ روپیہ ہے جو پاکستان سے پہلے باہر گیا اور پھر پاکستان واپس آیا دیکھنا یہ ہے یہ پیسہ ان اکاؤنٹ میں موجود ہے ،پیسہ گیا ہے یا آیا ہے،جو بیان انہوں نے دیا ہے اس کی حیثیت نہیں بھی تو جو میٹریل انہوں نے دیا ہے اس کی حیثیت تو ہے،جسٹس کھوسہ نے بھی پوائنٹ نوٹ کیا تھا کہ ہم نے تو میٹریل دیکھنا ہے ان خیالات کااظہار انہوں نے صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کیا،انہوں نے کہا کہ پانامہ کیس کے متعلق بی بی سی آئی سی آئی اور دیگر غیر ملکی معتبر اخبارات اورجریدوں میں سٹوریں شائع ہوئیں تمام ادارے معتبر ہیں اگر یہ غلط ہوتے تو میاں نواز شریف ان کے خلاف حق عزت کا دعویٰ کرتے ،اس طرح نواز شریف فیملی کو اربوں روپے مل جاتے ،چوہدری فواد حسین نے کہا کہ آئس لینڈ کے وزیراعظم پر الزام لگا تو ان کو استعفیٰ دینا پڑا ،ڈیوڈ کیمروں پر الزام تھا کہ ان کے سوتیلے باپ کا آف شوکمپنی کا سلسلہ تھا اس کے باوجود ان کو پارلیمنٹ میں آکر جواب دینا پڑا،کیونکہ معاشرتی دباؤ تھا ہمارے ہاں زیادہ ترلوگ یہ سوچ کر بیٹھ جاتے ہیں کہ کیا کچھ ہوناہے تو پھر وہ سٹیٹس قوم میں آجاتا ہے،جب تک لوگ آگے نہ بڑھیں اس وقت تک تحریک چلانے کا کوئی فائدہ نہیں ہوتا،پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان نے عوام میں شعور اجاگر کیا ،گورنس کے ایشو عوام کے سامنے لے کر آئے اور اب لوگ بات کرتے اور سنتے ہیں اورتبدیلی تو عوام سے ہی آتی ہے،چوہدری فواد حسین نے مزید کہا کہ وزیراعظم میاں محمد نواز شریف نے پارلیمنٹ کے اندر تقریر میں پانامہ کیس پر اپنا موقف دیا اور بعد میں سپریم کورٹ میں کہا کہ وہ سیاسی بیان تھا، جمہوریت کے اندر سب سے بڑا ادارہ پارلیمان کا ادارہ ہے اور اگر یہ کہیں کہ وہاں دیے گئے بیان کی کوئی حیثیت نہیں یا سیاسی بیان قراردے تو پھر جمہوریت کی ساری بنیاد ہی ہل جائے گئی،انہوں نے کہا کہ ہمارے زیادہ تر ممبران اسمبلی پارلیمنٹ کے اندر بولتے نہیں اس میں جہلم کے ایم این ایز بھی شامل ہیں،رولنگ پارٹی کے 110اراکین ایسے ہیں جنہوں نے چار سال میں پارلیمنٹ میں ایک لفظ بھی نہیں بولا،اس سے پارلیمنٹ کی حیثیت اور اہمیت کا اندازہ ہوتا ہے ،چوہدری فواد حسین نے مزید کہا کہ ڈیوس میں پاکستان کی عالمی سطح پر جگ ہنسائی ہوئی ،نواز شریف پر کرپشن کے الزامات ہیں سپریم کورٹ میں کیس چل رہا ہے تو ایسے وقت میں وزیراعظم پاکستان اینٹی کرپشن پر لیکچر دینے ڈیوس چلے گئے اور وہاں پھر ان کو تقریر کرنے سے روک دیا گیا،وزیراعظم کو خود بھی خیال ہونا چاہیے اور ایسے حالات میں ہر جگہ جانے سے پرہیز کرنا چاہیے ،انہوں نے مزید کہا کہ اس طرح کے وزیراعظم کو پہلے کہا جائے کہ پارلیمنٹ میں آکر جواب دیں تو وہ پارلیمنٹ میں نہیں آتے،سمجھ نہیں آتی پاکستان مسلم لیگ (ن)کے لوگ خود کو جمہوری پارٹی کیسے کہتے ہیں ،سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ ڈونلڈ ٹرمپ سب سے زیادہ امریکہ کیلئے خطرہ ہیں جس طرح کی وہ پالیسی لے کر آئے ہیں اس سے مسائل بڑھیں گے،نسلی اور مذہبی امتیاز بڑھے گا ،ان کے خلاف مہم اور مظاہرے شروع ہو گئے ہیں جس سے ٹرمپ کو نقصان ہوگا،چوہدری فواد حسین نے کہا کہ این اے 63کا ٹکٹ ہمارے پاس ہے ضمنی الیکشن میں حکومتی مشینری کی مدد سے مسلم لیگ(ن)کے امیدوار کو فتح ملی،ہم نے الیکشن کمیشن میں رٹ پٹیشن دائر کی پھر ہم نے سوچا کہ اب ویسے بھی چھ سات ماہ رہ گئے ہیں اور پانامہ لیکس کا مسئلہ ہمارے مسئلے سے بڑا ہے جو کہ ملک کا مسئلہ ہے ،انہوں نے کہا کہ قومی اسمبلی کے 72حلقوں کیلئے پی ٹی آئی نے امیدوار فائنل کر لیے ہیں،پانامہ کیس میں مٖصروفیات کی وجہ سے کچھ دنوں کیلئے ناموں کا اعلان نہیں کیاگیا،پانامہ کیس میں حسن نواز اور حسین نواز کے وکیل سلیمان اکرم راجہ کے دلائل شروع ہو گے ہیں اور پندرہ بیس دن میں فیصلہ آجائیگا،جو بھی فیصلہ ہو گا ہم تسلیم کریں گے،انہوں نے کہا کہ مسلم لیگ (ن)کے چند وزراء بیان بازی کر کے پانامہ لیکس پر اثر انداز ہونے اور اداروں کے مابین اختلافات پید ا کرنے کی کوشش کررہے ہیں لیکن سپریم کورٹ کے ججز ان کے دباؤ میں نہیں آئیں گے۔

About Tanveer Khatana

Check Also

سپرلیگ کا جنون چھانے لگا، جشن کرکٹ کی دھوم، دبئی ستاروں کا مسکن بن گیا

راچی (اسٹاف رپورٹر) پاکستان سپر لیگ کا جنون چھانے لگا۔ دنیا بھر کے کرکٹ ستاروں …

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *