Home / Articles / Articles in Urdu / میڈیا کی آزادی …… وفاقی سیکرٹری اطلاعات کے چیلنجز!

میڈیا کی آزادی …… وفاقی سیکرٹری اطلاعات کے چیلنجز!

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنی انتخابی مہم میں میڈیا کو خوب رگیدا، اس کرہ ارض پر آزادی اظہار رائے کے بطن سے امریکہ دنیا کا سب سے طاقتور ترین ملک بن کر ابھرا ، لیکن اس ملک کے صدر اب بھی میڈیا کی ساکھ بار بار چیلنج کررہے ہیں ، امریکہ جیسے ملک میں میڈیا کی ساکھ کو بار بار سوالیہ نشان بنانے کے عمل سے اس کی آزادی پر مہیب خطرات منڈلانے لگے ہیں ، دنیاکے طاقتور ترین شخص کی جانب سے میڈیا کے ساتھ یہ اسلوب اپنانے کے اثرات پوری دنیا میں مرتب ہونے لگے ہیں ، تیسری دنیا میں پاکستان جیسے ممالک کیلئے میڈیا کی آزادی کیلئے پہلے سے ہی خطرات موجود تھے ، پاکستان میں میڈیا کی آزادی کسی نے پلیٹ میں رکھ کر نہیں دی میڈیا نے یہ آزادی اپنی جد و جہد سے حاصل کی ، آمریت ہمیشہ جمہوریت کی آزادی کیلئے پر خطر ہوتی ہے لیکن پاکستان میں جمہوری رہنما بھی عمومی طورپر اپنے اقتدار کے حصول کیلئے تو میڈیا کا سہارا لیتے ہیں لیکن اسے ایک بیساکھی سے زیادہ اہمیت نہیں دیتے ، جیسے ہی اقتدار کی مسند پر براجمان ہوتے ہیں اس بیساکھی کی انہیں چنداں ضرورت نہیں رہتی اور اسے پھینک دیتے ہیں ،تاہم پاکستان کے حالات جمہوریت کے حوالے سے غیر معمولی ہیں بالخصوص ایسے ماحول میں جب حکومت کو کمزور جمہوری طرز حکمرانی کے تناظر میں ایک کٹھن مسابقت کا بھی سامنا ہو تو میڈیا کی بیساکھی کی ضرورت موجود رہتی ہے ، گزشتہ روز وفاقی دارالحکومت میں بھی دنیا کے دیگر ممالک کی طرح میڈیا کی آزادی کا عالمی دن بظاہر جوش و خروش سے منایا گیا سیاستدانوں کی جانب سے بھی میڈیا کی آزادی سے اظہار یکجہتی کے بیانات داغے گئے لیکن ان پر تکیہ کرنا کسی بڑی نادانی سے کم نہیں ، جبکہ سیاستدانوں کے علاوہ دیگر شعبہ جات زندگی تو میڈیا سے خصوصی پرہیز فرماتے ہیں حکمران اشرافیہ کے وہ طبقے جنکا مفاد’’ سٹیٹس کو‘‘کو برقرار رہنے میں ہے میڈیا کی آزادی پر جزوی طورپر بھی یقین نہیں رکھتے جبکہ یہ امر روز روشن کی طرح عیاں ہے کہ جب کسی فرد یا طبقے کے مفاد پر زک پڑتی ہے اور اسے انصاف نہیں ملتا تو میڈیا واحد آخری عدالت ہے جو انصاف کی فراہمی میں کوئی کردار ادا کرسکتی ہے پاکستان کے معروضی سیاسی حالات بالخصوص پانامہ لیکس اور ڈان لیکس کے حوالے سے میڈیا کا کردار غیر معمولی اہمیت اختیار کرگیا ہے جس کی وجہ سے اگرچہ موجودہ حکومت نے شروع ہی سے وفاقی وزارت اطلاعات کو بہت حد تک ’’غیر متعلق ‘‘کر رکھا تھا اور میڈیا کے بندوبست کے وزارت اطلاعات کے متوازی کئی نظام بنا رکھے تھے لیکن پانامہ اور ڈان لیکس کے تناظر میں وزارت اطلاعات کی اہمیت دوبار ہ جاگ گئی ، پہلے ڈی ایم جی افسر شعیب صدیقی کو وزارت اطلاعات کا اضافی چارج دیا گیا لیکن وہ انفارمیشن گروپ کے ساتھ حکومتی برتاؤ کے ردعمل کی تاب نہ لاسکے ، تاہم اس کے بعد چیلنجز کی بھٹی سے گزرے ہوئے منجھے ہوئے افسر احمد نواز سکھیرا کو میدان میں اتارا گیا ، جب انہوں نے چارج سنبھالا تو انفارمیشن گروپ کی صفوں میں بد دلی نمایاں تھی حتیٰ کہ بہت سے افسران نے احتجاجاًکالی پٹیاں باندھ رکھی تھیں ، اس وقت کے دبنگ پی آئی او راؤ تحسین بھی سیکرٹری انچارج بننے اور بعد ازاں گریڈ22کے حصول کے خواہاں تھے راؤ تحسین میڈیا میں مقبول ہونے کیساتھ ساتھ اسلام آباد کی بیوروکریسی کے حلقوں کی سماجی محفلوں کی جان بھی سمجھے جاتے تھے لیکن انکی مہارت اور وسیع تعلقات عامہ ڈان لیکس کا شکار ہوگئے اگرچہ رپورٹ کے عام مندر جات سامنے نہیں آئے لیکن اگر تو ان پر یہ الزام ہے کہ وہ میڈیا میں کسی خبر کی اشاعت رکوانے میں ناکام ہوئے ہیں تو یہ الزام تو میڈیا کی آزادی کے منافی نظر آتاہے ، ڈان لیکس رپورٹ کے نتیجہ میں گزشتہ روز انفارمیشن گروپ کے افسر سلیم بیگ کو پی آئی او کا اضافی چارج سونپ دیا گیا ہے جبکہ مستقل تعیناتی کے لئے ان کے نام کے ساتھ ڈائریکٹرجنرل ایکسٹرنل پبلسٹی ونگ شفقت جلیل ،ڈائریکٹر جنرل اکیڈمی شیراز لطیف کے نام وزیراعظم کو بھجوائے گئے ہیں لیکن قرین قیاس ہے کہ سلیم بیگ کو پی آئی او کا مستقل چارج مل جائیگا ، سلیم بیگ کی شہر ت ایک کتاب دوست کی ہے ،یہاں یہ امر قابل ذکر ہے کہ بعض حلقے کمشنر فیصل آباد مومن آغا کو پی آئی او لگانے کے حق میں تھے لیکن واقفان حال کا کہنا ہے کہ انہوں نے از خود اس سرکس میں نہ کودنے کا فیصلہ کیا ہے جبکہ شیراز لطیف کو ڈی جی ریڈیو کااضافی چارج دینے کیلئے سمری بھیجوائی گئی ہے ، نائلہ مقصود کوسائبر ونگ سے ہٹا کر ڈپٹی ڈائریکٹر جنرل پی آئی ڈی اور میاں جہانگیر کو ڈائریکٹر جنرل سائبر ونگ لگا یا گیا ہے ، پریس رجسٹرار کے عہدہ پر نزہت یاسمین کی تبدیلی زیر غور تھی لیکن اب انہیں ہی اس عہدہ پر برقرار رکھا گیاہے، پشاور میں انفارمیشن گروپ کے طویل عرصہ سے تعینات کیپٹن عبدالمجید نیازی ڈائریکٹر جنرل پشاورکو بھی وفاقی دارالحکومت میں تعینات کیا جارہاہے قرین قیاس ہے کہ انہیں وزارت قومی تاریخ و ادبی ورثہ میں جوائنٹ سیکرٹری تعینات کیا جائیگا ،ملک کی ہر لمحہ بنتی بگڑتی ہوئی صورتحال کے پیش نظر آئندہ دنوں میں میڈیا اور وفاقی وزارت اطلاعات کا کردار غیر معمولی اہمیت کا حامل رہے گا، انفارمیشن گروپ کے ہر دلعزیز افسر راؤ تحسین تو شائد عارضی طورپر وزارت اطلاعات کے منظر سے اوجھل رہیں گے لیکن امید ہے کہ وفاقی سیکرٹری اطلاعات احمد نواز سکھیرا میڈیا کے حوالے سے عمومی حکومتی رویہ اور ڈان لیکس کی رپورٹ کے بعد کی صورتحال میں انفارمیشن گروپ کے دل گرفتہ افسران کا دل جیتنے میں کامیاب ہوجائیں گے ! کیونکہ انفارمیشن گروپ حکومت اور میڈیا کے مابین ایک پل کی حیثیت کا کام کرتاہے اس لئے اس پل کی مضبوطی دونوں میڈیا اور حکومت کے فائدے میں ہے اگروفاقی سیکرٹری اطلاعات اس چیلنج سے عہدہ براہوگئے تو اس سے انفارمیشن گروپ کی کافی حد تک دل جوئی ہوسکے گی تاہم ڈان لیکس کے میڈیا کی آزادی کے حوالے سے جو مضمرات سامنے آئے ہیں وفاقی سیکرٹری اطلاعات کو اسکا بھی ازالہ کرنا ہوگا اور ایسے اقدامات کرنے ہونگے کہ میڈیا کااپنی آزادی کے حوالے سے عدم تحفظ کااحساس دور ہوسکے دوسری طرف میڈیا کو ملک کی موجودہ سیاسی لحاظ سے انتہائی منقسم صورتحال میں اپنی ساکھ کا چیلنج درپیش ہے کیونکہ میڈیا کی سا کھ ہی بہت حد تک اس کی آزادی کی ضمانت ہے ،میڈیا کو اپنی ساکھ برقرار رکھنے کیلئے ادھر ادھر دیکھنے کی بجائے از خود کرداراداکرنا ہوگا وگرنہ لوگ میڈیا کیساتھ ٹرمپ کے انداز میں برتاؤ کرینگے۔
خبری بے خبری

About Tanveer Khatana

Check Also

فوج پر ہر الزام کیوں؟؟؟ تحریر نوید چوہان

کل کا سورج طلوع ہوتے ہی پاکستانی عوام اپنے مستقبل کا فیصلہ کرنے نکلے گی، …

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *