Home / interviews / Politician / سابق ایم این اے اور سابق منسٹر ریاض فتیانہ سے خصوصی ملاقات

سابق ایم این اے اور سابق منسٹر ریاض فتیانہ سے خصوصی ملاقات

image

سابق ایم این اور انسانی حقوق کے علمبردار ریاض فتیانہ سے اولڈھم اردو نیوز کے چیف ایڈیٹر اور ریڈیو سنگم کے پریزنٹر تنویر کھٹانہ کی ریڈیو سنگم پر خصوصی گفتگو۔ ریاض فتیانہ جو کہ انسانی حقوق کے علمبردار اور سائکالوجسٹ کے ساتھ ساتھ سیاست کا بھی وسیع تجربہ رکھتے ہیں اور اسی وجہ سے وہ وفاقی وزیر بھی رہ چکے ہیں ان کا تعلق کمالیہ سے ہے اور ان کے برطانیہ اور یورپ کے دورے کا مقصد ان کی نئی پارٹی جس کا نام عوام لیگ ہے جو کہ پاکستان میں الیکشن کمیشن آف پاکستان کے پاس رجسٹر بھی ہو چکی ہے کی رابطہ مہم ہے۔ ریاض فتیانہ کو کون نہیں جانتا مختلف سوالات کے جوابات میں ان کا کہنا تھا کہ ہم انتظامی بنیادوں پر مختلف صوبے بنانا چاہتے ہیں تاکہ اختیارات نچلی سطح تک منتقل ہو سکیں اور اگر اس کے لیے ہم ریفرینڈم کروائیں گے تاکہ عوام اپنا حق راۓ دہی استعمال کر سکیں اور جس بھی صوبے میں رہنا چاہے وہ رہ سکیں۔image

ان کا مزید کہنا تھا کہ ہم کڑے احتساب پر یقین رکھتے ہیں اور اس کے لیے ہم چاہتے ہیں کہ 1947 سے احتساب ہو اور جس جس نے بھی ملک کو لوٹا ہے اس سے نہ صرف پیسے واپس لیے جائیں اور دوبارہ ملک کی بہبود و ترقی میں خرچ کیے جائیں بلکہ ان لوگوں کو سخت سزائیں دی جائیں۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ میں نواز، زرداری اور عمران کے خلاف بات نہیں بلکہ سسٹم کی خلاف بات کرتا ہوں ہماری پارٹی اس سسٹم کو تبدیل کرنا چاھتی ہو اور درحقیقت اس کو قائداعظم کا پاکستان بنانا چاھتی ہے اور یہ اسی صورت ممکن ہے جب مڈل کلاس طبقہ ملک کی باگ دوڑ میں اپنا حصہ ڈالے گا ۔ ان کا کہنا تھا کہ میں ایک مڈل کلاس فیملی سے ہوں اور آزادنہ حیثیت سے ممبر قومی اور صوبائی اسمبلی منتخب ہوتا رہا ہوں اور اب جو ملک کے حالات ہیں ان میں یہ ضروری ہے کہ اس نظام کہ خلاف بغاوت کی جائے اور پاکستان کو درحقیقت قائد کا پاکستان بنایا جائے۔ ہماری جماعت سیاستدانوں کی پیچھے بھاگنے والی جماعت نہیں ہے ہم عام لوگوں کو آگے لے کر آنا چاھتے ہیں جس میں ٹیچرز، وکیل، ریٹائرڈ فوجی، بزنس مین، سٹوڈنٹس اور عام شعبہ جات سے تعلق رکھنے والے لوگ ہیں۔ اپنے سیاسی کئیریر کے حوالے سے ان کا کہنا تھا کہ میں نے سٹوڈنٹس فیڈریشن سے سیاست شروع کی اور آج یہاں تک پہنچا ہوں ہماری جماعت میں سٹوڈنٹس اور تعلیم پر خصوصی توجہ ہے۔image

ہم تعلیم پر ریفارمز لے کر آنا چاھتے ہیں تاکہ بچوں کو اچھی اور مناسب سہولیات میسر ہو سکیں۔ بزنس کہ حوالے سے ایک سوال۔ کے جواب میں ان کا کہنا تھا کہ جی ہاں سیاستدان کو بزنس کرنا چاہیے لیکن وہ اپنے ملک میں کرے لیکن اگر وہ اقتدار میں ہے تو اسے بزنس سے الگ کو جانا چاہیے۔ الطاف حسین کے پاکستان مخالف بیان پر ان کا کہنا تھا کہ ہماری پارٹی ملک پاکستان کی بات کرتی ہے اور بلکل ایسے بیانات کسی طور پر بھی قابل قبول نہیں ہیں ۔ کشمیر کے حوالے سے سوال کے جواب میں ان کا کہنا تھا کہ ہم تو ریفرینڈم کی حق میں ہیں کہ کشمیریوں کو حق خود ارادیت دینا چاہیے کہ وہ بھارت، پاکستان یا پھر آزاد ملک بننا چاھتے ہیں۔ پارٹی کی ممبر شپ کے حوالے سے ان کا کہنا تھا کہ جو بھی اس پارٹی میں شامل ہونا چاھتا ہے وہ عوام لیگ ڈاٹ کام پر جا کر ہماری پارٹی کا منشور اس میں موجود لوگ اور ہماری ترجیحات کے بارے میں تفصیلات حاصل کر سکتا ہے۔ کھیل کے بارے میں ان کا کہنا تھا کہ کھیلوں کے حوالے سے ہماری پارٹی کا ایک مختلف ویژن ہے اور ہم ہر ضلع اور صوبے میں کھیلوں کے میدان اور سہولیات فراہم کریں گے اور یہ اسے صورت ممکن ہو گا جب اختیارات نچلی سطح پر منتقل ہونگے۔ مشرف دور میں اس ماڈل کی ناکامی کے سوال کے جواب پر ان کا کہنا تھا کہ ماڈل ناکام نہیں ہوا تھا بد انتظامی ہوہئ تھی ناظم کے پاس ترقیاتی مد میں بہت رقوم تھیں لیکن ہم شفاف اور احتسابی سسٹم پر جس پر رقم کہا خرچ ہوہئ اور اس کا حساب پر ہی ترقیاتی فنڈز جاری کریں گے۔ ان کا کہنا تھا کہ اگلے الیکشن میں ہماری کوشش ہے کہ ملک بھر سے ہم اپنے امیدواران کھڑے کریں اور اسی سلسلے میں یورپ اور برطانیہ کا دورہ کر رہا ہوں کیونکہ اورسیز پاکستانی اپنے ملک کی ترقی میں نمایاں کردار ادا کرتے ہیں اور ہم کم ازکم چار اوورسیز نشستوں کو بھی قومی اسمبلی میں شامل کرنا چاھتے ہیں۔عوام لیگ عوام کی پارٹی ہے اور آئندہ الیکشن میں آپ کو یہ ہر جگہ نظر آۓ گی ۔ ہماری لڑائی کسی فرد یا شخصیت سے نہیں نظام سے ہے اور اس کی تبدیلی تک پاکستان میں تبدیلی نہیں آۓ گی ہم نئے پاکستان کی نہیں قائد اعظم کے پاکستان کی بات کرتے ہیں۔image


About admin

Check Also

Elections 2018: Imran Khan vows to implement PTI manifesto in victory speech at Bani Gala

Pakistan Tehreek-e-Insaf (PTI) chief Imran Khan on Wednesday vowed to implement party manifesto effectively after …

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *