Home / Latest Urdu News / Ban ul Aqwami / بیرون ملک سے ایک سے زائد فون پاکستان لانے پر ٹیکس اور ڈیوٹی ادا کرنے کے حوالے سے کمیونٹی تشویش کا شکار

بیرون ملک سے ایک سے زائد فون پاکستان لانے پر ٹیکس اور ڈیوٹی ادا کرنے کے حوالے سے کمیونٹی تشویش کا شکار

بیرون ملک سے ایک سے زائد فون پاکستان لانے پر ٹیکس اور ڈیوٹی ادا کرنے کے حوالے سے کمیونٹی تشویش کا شکار

مانچسٹر( تنویر کھٹانہ) تحریک انصاف کی حکومت کی جانب سے ماہ دسمبر سے بیرون ملک سے پاکستان ایک سے زائد فون لیجانے پر نیا ٹیکس اور ڈیوٹی متعارف کروا دی گئی ہے۔ جس کے لیے تمام ائیرپورٹس پر ڈیوٹی سیکشن بنائے گئے ہیں۔ بیرون ملک بسنے والے پاکستانی اب پاکستان آمد پر صرف زیر استعمال ایک فون کو ائیرپورٹ پر رجسٹر کروا کر ڈیوٹی سے استثنی حاصل کر سکتے ہیں۔ائیرپورٹ پر آئی ایم ای آئی نمبر رجسٹر کروا کر پندرہ دن کے اندر اندر ٹیکس ادا کیا جا سکتا ہے ٹیکس ادا نہ کرنے کی صورت میں پاکستانی سم ڈالنے پر فون بلاک ہو جائے گا۔ بہت سے لوگ دو فون استعمال کرتے ہیں ایسے صارفین کو بھی دوسرے فون پر ڈیوٹی اور کسٹم ادا کرنا ہو گا۔ حکومت کی جانب سے اس حوالے سے تفصیلی معلومات دستیاب نہیں ہیں کہ بار بار سفر کرنے والے لوگ جن کے زیر استعمال دو فون ہیں اگر ایک بار ڈیوٹی ادا کرتے ہیں تو کیا دوسری انٹری پر انھیں پھر سے انٹری ادا کرنی ہو گی یا نہیں یہ ایک بڑا سوال ہے۔ خیر ڈیوٹی اور ٹیکس کے حوالے سے اوورسیز میں بسنے والے بہت سے لوگ تشویش کا شکار ہیں کیونکہ گزشتہ دن سوشل میڈیا پر وائرل ہونے والی ایک رسید کے مطابق چوبیس ہزار مالیت کے ایک فون پر صارف نے گیارہ ہزار روپے ٹیکس اور ڈیوٹی کی مد میں ادا کیے۔ جس کے بعد سوشل میڈیا پر بحث چھڑ گئی ہے کہ کیا ایسا کرنا درست ہے۔ فیڈرل بیورو فار ریونیو کی جانب سے جاری کردہ ٹیکس اور ڈیوٹی لسٹ کے مطابق پاکستان کے مقبول ترین فونز آئی فون، سام سنگ وغیرہ پر ٹیکس کی مد میں ان کی اصل قیمت کا چالیس فیصد اور بعض اوقات اصل قیمت کے لگ بھگ تک ٹیکس وصول کیا جائے گا۔ عالمی منڈی میں آئی فون سیکس کی قیمت پانچ سو پچاس ڈالر کے قریب ہے جبکہ پاکستان میں یہ فون بہترین حالت میں ساٹھ سے اسی ہزار کے لگ بھگ فروخت ہو رہا ہے۔ بیرون ملک سے آنے والا کوئی پاکستانی اگر یہ فون باہر سے ساڑھے پانچ سو ڈالر میں خریدتا ہے اور اس پر ٹیکس کی مد میں ساڑھے چار سو ڈالر ٹیکس ادا کرتا ہے تو یہ فون اسے تقریباً ایک ہزار ڈالرز اور پاکستانی کرنسی کے مطابق ایک لاکھ تیس ہزار میں پڑے گا جو کہ اس کی اصل مالیت سے دوگنا زیادہ ہے۔ سام سینگ ایس ایٹ کی بین الاقومی منڈی میں قیمت سات سو پچاس ڈالرز ہے جبکہ اس پر ٹیکس کی مد میں چھ سو ڈالرز وصول کیے جائیں گے۔ جبکہ پاکستان میں یہی فون ستر سے نوے ہزار میں دستیاب ہے۔ اگر ٹیکس دیکر یہ فون پاکستان میں لیجایا جائے تو اس کی مالیت تقریباً ایک لاکھ ساٹھ ہزار پاکستانی روپےبنتی ہے جو کہ اصل قیمت کا دو گنا ہے۔ وزیراعظم عمران خان کی حکومت کا ریونیو جنریٹ کرنے کے لیے یہ فیصلہ مناسب ہے اگر دس یا پندرہ فیصد تک ٹیکس وصول کیا جائے لیکن پچاس فیصد یا اس سے زائد تک ٹیکس وصولی اوورسیز پاکستانیوں کو حکومت سے بد زن بھی کر سکتی ہے اس کے علاوہ یہاں ایک اور امر بہت اہم ہے کہ کیا پاکستانی ائرپورٹ پر فلائٹ سے اترنے والے تین سو کے لگ بھگ مسافروں سے فونز پر کسٹم اور ڈیوٹی کے حوالے سے تفصیل جمع کرنے پر کم ازکم ایک سے دو گھنٹے تک لگ سکتے ہیں کیا حکومت پاکستان کہ پاس ائیرپورٹ پر ان سہولیات کے لیے عملہ موجود ہے۔ حکومت وقت کو اوورسیز پاکستانیوں کے لیے سہولیات کا اہتمام کرنا چاہیے نا کہ ائیرپورٹ پر اترتے ہی ایک اور نیا ٹیکس جو ان کے لیے مزید مشکلات پیدا کرے گا۔

About admin

Check Also

ریڈفاؤنڈیشن کے زیرانتظام چیریٹی ڈنر، امریکن سکالر یاسر قاضی کی خصوصی شرکت

ریڈفاؤنڈیشن کے زیرانتظام چیریٹی ڈنر، امریکن سکالر یاسر قاضی کی خصوصی شرکت مانچسٹر( تنویر کھٹانہ/ …

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *